ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ہبلی: سڑک توسیع کےلئےتاریخی سید محمود شاہ قادری ؒ  درگاہ کا انہدام : دیر رات مزارات کو کیا گیا منتقل

ہبلی: سڑک توسیع کےلئےتاریخی سید محمود شاہ قادری ؒ  درگاہ کا انہدام : دیر رات مزارات کو کیا گیا منتقل

Wed, 21 Dec 2022 20:14:31    S.O. News Service

ہبلی،22؍ دسمبر(ایس اؤ نیوز )بائیری دیورکوپا کے قریب  والی سڑک کی توسیع کےلئے  تاریخی درگاہ  اور اطراف کے کمرشیل کامپلیکس  کی انہدامی کاروائی جاری ہے۔  جس کے لئے  پولس سکیورٹی کاجال بچھایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کی طرف سے سڑک کی توسیع کے لئے درگاہ کو منہدم کرنے کا حکم دیا گیا  تھا۔ اس دوران بتایا گیا تھا کہ مسلم رہنمائوں نے  درگاہ میں واقع مزارات کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی مہلت مانگی گئی تھی مگر ضلعی انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی۔ مگر پتہ چلا ہے کہ دیر رات مزارات کو قریبی مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ 

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  عدالت نے ہبلی ۔ دھارواڑ کے مین روڈ پر واقع بائیری دیورکوپا کے قریب والی حضرت سید محمود شاہ قادری درگاہ کو سڑک  کی توسیع کی خاطر نکالنےکا حکم دیاتھا۔ جس کےلئے ہبلی ۔ دھارواڑ کی ضلع انتظامیہ  رات سے ہی پیشگی تیاری کرتےہوئے درگاہ کی پہرہ داری پر  پولس کو تعینات کردیا تھا۔ جس کے بعد میونسپالٹی ملازمین اور جے سی بی مشین کو استعمال کرتےہوئے درگاہ  کی انہدامی  کاروائی شروع کی گئی۔

درگاہ کے قریب ٹریفک  پرپابندی: درگاہ کی انہدامی کارروائی میں کسی طرح کی کوئی پریشانی یا رکاوٹ نہ ہو اس کےلئے درگاہ کے قریب سے گزرنےوالی ہبلی۔ دھارواڑ کی مین روڈ کے دونوں طرف 500میٹر کی دوری تک بیری کیڈ لگاتے ہوئے ٹریفک  کو بند کیاگیاتھا۔ اس کے علاوہ درگاہ کے اطراف ٹین کے شیٹ کی باڑ لگائی گئی تھی۔ اور اندر درگاہ کی انہدامی کارروائی ہورہی تھی۔ سکیورٹی کےطورپر 5ڈی وائی ایس پی  اوراے سی پی ، 13پولس انسپکٹر، 15پی ایس آئی کو تعینات کیاگیا تھا۔ ہبلی۔ دھارواڑ شہری پولس کمشنر لابھو رام وقفہ وقفہ سے جائے وقوع کا دورہ کرتےہوئےحالات کا معائنہ کررہےتھے۔

درگارہ کے مزارات کو منتقل کرنے کی درخواست: پتہ چلا ہے کہ اس موقع پر مختلف مذہبی رہنما ، درگاہ کمیٹی،  انجمن اسلام کے عہدیداران  اور عوام نے ڈپٹی کمشنر گرودت ہیگڈے اور بی آر ٹی ایس کے مینجنگ ڈائرکٹر سے ملاقات کی اور گزارش کی  کہ وہ  درگاہ کے مزارات کو منتقل کرنے  کے لئے  مہلت دیں۔

مقامی مسلمانوں نے بتایا کہ نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے مزارات منتقل کر نے 15 دنوں کا وقت مانگا گیا اور کہا گیا کہ  کسی طرح کے  ناخوشگوار واقعہ کے بغیر مزارات کو متنقل کیا جائے گا لیکن ضلع انتظامیہ اس پر کسی بھی طرح کی توجہ  نہیں دے رہا ہے۔ مگر بعد میں خبر ملی کہ دیر رات مزارات کو منتقل کرنے کی اجازت دی گئی اور قریبی علاقہ میں مزارات کی منتقلی عمل میں آئی ہے۔

انہدامی کارروائی کے موقع پر ڈپٹی کمشنر گرودت ہیگڈے ، بی آر ٹی ایس کے مینجنگ ڈائرکٹر بھرت، پولیس کمشنر لابھورام ڈی سی پی ساحل باگلا ، گوپال کرشنا میا کوڈ حاضر تھے۔

اس سے قبل :شائع رپورٹ: مسلم رہنما ہنڈ سگری نے درگاہ کو منتقل کرنے سے پہلے انہدامی کارروائی شروع کرنے پر سخت مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ کئی سال پرانی درگاہ کو منہدم کر کے شہر کے امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فاؤنڈیشن کے صدر نوید ملا نے بھی حضرت محمود  شاہ قادری ؒ کے انہدام کی سخت مذمت کی اور کہا کہ تاریخی  ہندو مسلم یکجہتی کا مرکز اس درگاہ کو منہدم کرتے ہوئے ہزاروں مسلمانوں  کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔ 

مقامی رہنما الطاف ہلور نے الزام لگایا کہ بی آر ٹی ایس کی آڑ میں بی جے پی نے سازش رچ کر درگاہ کو مسمار کرایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی ہندو مسلم اتحاد میں دراڑ پیدا کرنے اور مذہبی ہم آہنگی کو دھکا پہنچانے کے لئے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ 


Share: